بسم اللہ الرحمن الرحیم 💞
ابتداء ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو اندھیرے کو روشنی میں تبدیل کرتا ہے اور دلوں کے بھید خوب جانتا ہے 🥰💜
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
امید ہے آپ خیریت و عافیت سے ہوں گے..💓💓
ہمیشہ پہلے کی طرح آج کا بلاگ بھی انتہائی دلچسپ اور مفید ثابت ہو گا...جب پورے عیسائی یورپ* کی سب سے بڑی لائبریری میں کتابوں کی تعداد 6 ہزار تھی تو اسلامی یورپ کے صرف ایک شہر قرطبہ میں سالانہ 60 ہزار کتابیں ہاتھ سے لکھی جارہی تھی. کہا جاتا ہے کہ اس وقت مسلم حکمران کی لائبریری میں کتابوں کی تعداد 4 لاکھ تھی. قائرہ، بغداد، دمشق، بخارا اور فاز کے کتب خانوں کا ذکر اس کے علاوہ ہے.تو اگر قوم کی ترقی، عروج و زوال کا تعلق *صرف* علم سے ہوتا تو اندلس پستی کی طرف کیوں گیا؟ سائنس و علم پر ہنر رکھنے والے مسلمان نہانے کو بیماری کا سبب سمجھنے والے مغرب سے شکست کیوں کھا گیے؟دراصل قوم کے عروج اور زوال کا تعلق اس کی کتابوں، اس کے فوجی لشکر یا اس کے ڈگری ہولڈرز سے نہیں ہوتا بلکہ قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب وہ اپنے نظریے پر کاربند ہو اور جب وہ نظریے میں سستی دکھائے..اس میں ملاوٹ کرے تو وہ ناکام ہوتی ہے. یہی وجہ ہے خلفاء راشدین کے دور میں مسلمان عروج پر تھے، حالانکہ اس وقت مدینہ روم و فارس کے دارالحکومت کے سامنے کچھ نہیں تھا. محلات، معیشت، آرٹ، فوج اور علم و ہنر کے باوجود روم و فارس پستی میں تھا جبکہ کچے گھر، پیوند لگے کپڑے اور محدود لشکر کے ساتھ خلافت راشدہ عروج پر تھی کیونکہ ان کا اپنے نظریے سے تعلق خالص اور شفاف تھا.جب اندلس میں مسلمانوں نے اسلامی نظریے سے غفلت برتی، جب آپس میں اختلافات کا شکار ہوئے، جب ایک امام کے بجائے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی شکل اختیار کی، جب اللہ کے حکم *تفرقے میں نہ پڑو* کو بھول گئے... تو وہ پستی میں گئے.تو آج جو لوگ دعوی کرتے ہیں کہ صرف علم اور ریسرچ کے فقدان کی وجہ سے مسلمان پستی میں ہیں تو ان سے عرض ہے کہ دراصل پستی کی وجہ سے علم اور ریسرچ میں فقدان ہے. جس دن مسلمان اپنے نظریے کو تھام لیں اس دن وہ غالب آئیں گے اور پھر قائرہ، بغداد، بخارا، کراچی، ڈھاکہ جدہ اور خرطوم علم اور آرٹ کے مرکز ہوں گے. ان شاء اللہ
0 Comments